ارضِ بلال

by Other Authors

Page 130 of 336

ارضِ بلال — Page 130

ارض بلال۔میری یادیں - لوگوں نے گاڑی رکھنے کیلئے اشارہ کیا۔گاڑی رک گئی۔اتفاق سے کئی دوسرے مسافر جلدی سے گاڑی میں سوار ہو گئے مگر احمدیوں میں سے صرف ایک بزرگ مکرم باجی صاحب بڑی مشکل سے سوار ہو پائے۔اتنے میں گاڑی چل پڑی اور باقی احمدی دوست پیچھے رہ گئے۔اس وفد کا کرایہ جس دوست نے ادا کرنا تھا، وہ بھی اس دھکم پیل میں پیچھے رہ گیا۔تھوڑی دیر بعد کرایہ وصول کرنے والا کارندہ اس بزرگ کے پاس آیا اور ان سے کرایہ کا مطالبہ کیا۔اس پر انہوں نے بتایا کہ جس دوست نے میرا کرایہ ادا کرنا تھا، وہ تو گاڑی پر سوار نہیں ہوسکا، میں تمہیں بنونہ پہنچ کر کرایہ ادا کر دوں گا لیکن اس کارندہ کو ان کی بات کا یقین نہیں آیا اور اس نے پیسوں کے لئے اصرار کیا۔بابا جی نے بتایا کہ میں احمدی ہوں اور جابانگ میں ایک جلسہ میں شرکت کے لئے آیا ہوں۔ہم احمدی لوگ جھوٹ نہیں بولتے۔میں انشاء اللہ بنجو نہ پہنچ کر آپ کا کرایہ ادا کر دوں گا۔اس کے باوجود وہ آدمی کرایہ کے لئے مصر رہا۔اس پر بابا جی نے کہا، میں نے امام مہدی کو مانا ہے، انشاء اللہ اس کی برکت سے مجھے بنجو نہ پہنچتے ہی کرایہ مل جائیگا۔اس پر باقی سواریوں نے بھی اس آدمی سے استدعا کی کہ اس بزرگ کو بنجو نہ تک پہنچنے دو۔پھر دیکھ لیں گے یہ سچ بولتا ہے یا جھوٹ۔گاڑی جب بنجونہ کے لاری اڈہ پر پہنچی تو ابھی بابا جی اترے ہی تھے کہ کنڈکٹر نے کرایہ کا مطالبہ شروع کر دیا۔اسی دوران ایک نوجوان تیزی سے باباجی کی طرف آیا اور ان کا حال احوال دریافت کیا۔اس دوران کنڈکٹر نے پھر کرایہ کا مطالبہ کیا۔اس نوجوان نے جب ساری بات سنی تو اس نے فور رقم نکال کر کنڈکٹر کے ہاتھ پر رکھ دی۔اس پر بابا جی نے اسے کہا میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کو ماننے والا ہوں ان کی برکت سے میرے کرایہ کا انتظام ہو جائے گا اور یہ ان کی سچائی کا ثبوت ہے۔سب دیکھنے والے حیران ہو گئے کہ کس طرح اللہ تعالی نے اس کی بات کو پورا کر دیا۔130