ارضِ بلال — Page 129
ارض بلال۔میری یادیں زمیندار احمدی ہو گیا۔احمدیت سے پہلے اس کا ایک پیر تھا جو موریطانیہ سے تھا اور ہر سال سینیگال میں آکر اپنے مریدوں سے ہدیہ وصول کر لیتا تھا۔اس دوست کے احمدی ہونے کے بعد ایک دن یہ پیر صاحب حسب روایت ان کے گھر آگئے ( پیر کو ان کی زبان میں شریف یا حیدرا کہتے ہیں ) اس احمدی دوست نے حسب توفیق اس کی خاطر مدارت کی۔فولانی لوگوں کا کام گائے پالنا ہے۔ان میں سے گھر کے ہر فرد کے پاس اپنی اپنی گائیں ہوتی ہیں۔یہی ان کی جائداد ہوتی ہے۔پیر صاحب اس آدمی کے ساتھ اس کے جانور دیکھنے گئے۔جانوروں کو دیکھ کر جوسب سے اچھی گائے تھی ، کہنے لگے میں نے یہ گائے لینی ہے۔وہ آدمی کہنے لگا، پیر صاحب یہ ممکن نہیں ہے۔میں آپ کو یہ گائے نہیں دے سکتا۔پیر صاحب نے اس کے لئے کافی اصرار کیا مگر وہ آدمی نہ مانا۔اس پر پیر صاحب جلال میں آگئے اور کہا ٹھیک ہے۔میں آج ہی تمہارے گھر کو جلا کر خاکستر کر دوں گا۔اب چونکہ یہ آدمی احمدی ہو چکا تھا اور اسے یہ یقین ہو چکا تھا کہ یہ پیر میرا کوئی نقصان نہیں کرسکتا یہ صرف جعلی دعوے کرتا ہے، یہ کچھ بھی نہیں کرسکتا۔یہ فولانی لوگ چونکہ ہر وقت اپنے جانوروں کے ساتھ جنگلوں وغیرہ میں رہتے ہیں اس لئے اپنی حفاظت کے لئے ہر وقت اپنے پاس ایک لمبا سا چاقو ر کھتے ہیں۔اس احمدی دوست نے فوراً اپنا خنجر نکالا اور کہا اس سے پیشتر کہ تو میرا گھر جلائے میں اس خنجر کے ساتھ تمہارا کام تمام کرتا ہوں۔اس پر پیر صاحب سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ نکلے اور پھر کبھی اپنے اس مرید کے علاقہ میں بھی نہیں پھینکے۔اس واقعہ سے باقی پیر پرست لوگوں کو بھی پیروں کی حقیقت اور انکی جعلی قوت کا علم ہو گیا۔ایک نومبایع کا صداقت حضرت مسیح موعود پر ایمان سینیگال کے ایک قصبہ جابانگ میں جماعت احمدیہ کا جلسہ ہوا۔جلسہ کے اختتام پر احباب اپنے گھروں کولوٹے۔ان میں سے ایک وفد بنجونہ کے علاقہ سے بھی آیا ہوا تھا۔اس وفد کے لوگ سڑک کے کنارے کسی ٹرانسپورٹ کے انتظار میں کھڑے ہو گئے۔کافی دیر کے بعد ایک گاڑی آئی۔ان 129