ارضِ بلال

by Other Authors

Page 99 of 336

ارضِ بلال — Page 99

ارض بلال۔میری یادیں تعارف کرایا گیا اور ان کے سوالات کے جوابات دیئے گئے۔اب مکرم Fawoora صاحب کہنے لگے ، دیکھیں میں تو اب بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اس لئے احمدی نہیں ہوسکتا۔ہاں میری اولاد میں اگر کوئی بیعت کرنا چاہے تو بخوشی احمدی ہو سکتا ہے۔اس پر ان کے بڑے بیٹے نے ( جو شادی شدہ اور صاحب اولاد تھا ) بیعت کر لی۔اس کے بعد سوال وجواب کا سلسلہ چلتا رہا۔رات تقریباً ایک بجے میں نے کہا اب آپ لوگوں سے ہم اجازت چاہتے ہیں اس لئے آؤ دعا کر لیں۔اس پر Fawoora صاحب کہنے لگے۔میں بھی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔میں ان کے جواب پر بہت حیران ہوا اور پوچھا ابھی کچھ دیر پہلے تو آپ نے انکار کر دیا تھا ایک دم یہ کیسا انقلاب آ گیا ہے۔فرمانے لگے، دیکھیں میں نے اس دنیا میں اپنی عمر کی 75 بہاریں دیکھی ہیں۔میرے اس غریب گھر میں جو شہر سے بہت دور ہے اور پھر سڑک سے بھی کافی ہٹ کر ایک غیر معروف جگہ پر ہے، اس گھر میں میری زندگی میں بہت سے لوگ آئے ہیں، لیکن ہر آدمی کسی لالچ اور مطلب کے تحت آتا رہا ہے۔اب میں نے سوچا ہے کہ آپ لوگ میری زندگی میں وہ پہلے مہمان ہیں جو میرے گھر میں محض اللہ تعالیٰ کی خاطر آئے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ آپ کی جماعت ایک الہی جماعت ہے اس لئے میں اس میں شامل ہوتا ہوں۔دوسری بات یہ ہے کہ میں اپنی عمر کے لحاظ سے خاندان کے بزرگوں میں شمار ہوتا ہوں اس لئے میرا فرض بنتا ہے کہ میں اب یہ پیغام حق اپنے قبیلہ کے سب افراد تک پہنچاؤں۔خاکسار ان کے جواب پر بہت خوش ہوا۔پھر ان کے ساتھ مل کر ان کے عزیز رشتہ داروں کو ملنے کا پروگرام ترتیب دیا گیا جس کے نتیجہ میں بہت سی سعید روحوں کو احمدیت میں داخل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔الحمد للہ۔فسل کے علاقہ میں بیعتوں کا سلسلہ ایک دفعہ میں نے جماعت کے دو معلمین استاذ علی وفائی اور موڈ وسار صاحب کو ایک تبلیغی مشن پر فاٹک کے علاقہ میں بھجوایا۔ان کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی۔جب یہ دونوں فسل کے علاقہ سے 99