ارضِ بلال

by Other Authors

Page 100 of 336

ارضِ بلال — Page 100

ارض بلال- میری یادیں ) گزر رہے تھے، اچانک ان کی موٹر سائیکل خراب ہو گئی۔ان دونوں نے اس کو ٹھیک کرنے کی کافی کوشش کی مگر موٹر سائیکل چلانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔آخر وہ مایوس ہو کر موٹر سائیکل کو کسی طرح ایک قریبی گاؤں تک لانے میں کامیاب ہو گئے۔اتفاق سے یہ ایک چیف صاحب کا گھر تھا۔معلمین نے ان کے گھر پہنچ کر اپنا تعارف کرایا اور موٹر سائیکل کے خراب ہونے کی داستان بھی بیان کی۔اس پر چیف صاحب کو ان کی حالت پر بڑا رحم آیا۔انہوں نے ان مہمانوں کا بڑا احترام کیا۔ان کے اہل خانہ نے بھی حسب توفیق ان مہمانوں کی خوب آؤ بھگت کی۔چیف صاحب نے اپنے ایک کارندے کو قریبی قصبہ میں بھجوایا تا کہ وہاں سے کسی مکینک کو لے آئے جو موٹر سائیکل کی مرمت کر دے۔کافی دیر کے بعد مکینک آیا اور اس نے کئی گھنٹے صرف کر کے موٹر سائیکل کو درست کر دیا۔اس ساری کاروائی کے دوران دونوں معلمین کو چیف صاحب کے گھر کئی گھنٹے قیام کرنا پڑا۔چیف صاحب نے معلمین سے پوچھا۔آپ لوگ کون ہیں اور کہاں جارہے ہیں؟ معلمین نے بتایا ، ہم لوگ احمدی ہیں اور فاٹک کے علاقہ میں احمدیت کی تبلیغ کے لئے جارہے ہیں۔چیف صاحب نے پوچھا، یہ احمدیت کیا ہے؟ اس پر انہوں نے حسب علم چیف صاحب کو جماعت کے بارے میں بتایا۔اس طرح یہ سلسلہ کئی گھنٹے چلتا رہا۔ان معلمین کو کئی گھنٹے وہاں رہ کر چیف اور اس کے اہل خانہ اور دیگر حاضرین کو بڑے احسن رنگ میں دعوت حق پہنچانے کی توفیق ملی اور اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ چیف نے اپنے احمدی ہونے کا اعلان کر دیا اور جتنے گاؤں اس کے زیر انتظام تھے، ان دیہاتوں کے نمبرداروں کے نام معلمین کو خط بھی لکھ کر دیئے اور معلمین سے کہا کہ آپ ان سب دیہاتوں میں جا کر میرا پیغام سب نمبر داروں کو پہنچادیں جس میں لکھا تھا۔میں تو اللہ کے فضل سے احمدی ہو گیا ہوں۔آپ لوگ بھی احمدیت کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لیں۔معلمین یہ خط لے کر بہت سے قریبی دیہاتوں میں گئے۔100