ارضِ بلال — Page 95
ارض بلال- میری یادیں - گورنمنٹ میں مانسا کونکو کے مقام پر گورنر کے عہدہ پر متعین ہیں۔میری ان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ، بڑے خوش ہوئے لیکن میں اپنی دیگر مصروفیات کے باعث ان سے نہ مل سکا۔ہماری کشتی میں آجاؤ، یہ محفوظ ہے Farafenni کے قریب ایک دیہات یائل با میں ایک عربی استاذ مکرم یوبی باہ صاحب رہتے تھے۔یہاں پر ایک سینیگالی معلم مکرم حامد مبائی صاحب کی تقرری ہوئی۔یہ دوست بھی فولانی تھے۔اس طرح ان کی آپس میں علیک سلیک ہوگئی اور تبلیغ کا سلسلہ چل نکلا۔حامد مبائی صاحب تبلیغ کرتے کرتے دور تک ان کے گاؤں کی طرف آجاتے۔پھر واپسی سے قبل کہتے ، استاذ آپ کو خدا تعالیٰ سے دُعا کرنی چاہیئے۔اس پر یو بی صاحب کافی مشکل میں تھے ایک طرف پورے قصبہ فرافینی کے لوگ احمدیوں کو کافر کافر کہہ رہے تھے۔ادھر احمدیوں کا مبلغ ہر باران کے ساتھ پیار سے پیش آتا اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا اور اس کے علاوہ ہر بار انہیں استخارہ کرنے کی تحریک کرتا۔اس پر بڑے پریشان ہو کر کہتے یا اللہ یہ ماجرا کیا ہے۔پھر اسی کشمکش میں ایک روز گھر آئے اور سو گئے اور آپ نے خواب میں دیکھا کہ وہ فرافینی کے قریب دریائے گیمبیا میں ایک کشتی پر سوار ہیں اور کشتی شدید لہروں کی وجہ سے سخت ہچکولے کھارہی ہے آپ اس کیفیت میں سخت پریشان ہیں۔آپ نے اس دوران ایک اور کشتی اپنی طرف بڑھتی ہوئی دیکھی۔اس میں آپ نے دیکھا کہ الحاج ابراہیم جگنی صاحب (ایک معروف احمدی مبلغ ) اس کشتی میں سوار ہیں اور مجھے اشارہ کر رہے ہیں اور بآواز بلند کہ رہے ہیں کہ یہ کشتی محفوظ ہے اس میں آجاؤ۔پھر انہوں نے اپنا ہاتھ میری جانب بڑھا کر مجھے بھی اپنی کشتی میں سوار کر لیا۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔خواب کا سارا نقشہ میرے دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا۔اس خواب کے بعد میں نے سوچا کہ یہ خواب میری دعا اور استخارہ کا ہی نتیجہ ہے اور محفوظ کشتی جس میں حاجی صاحب سوار ہیں، یہ احمدیت ہے۔یہی عصر حاضر کا سفینہ نوح ہے۔اگلے روز علی الصبح فرافینی مشن ہاؤس میں 95