ارضِ بلال — Page 96
ارض بلال۔میری یادیں ) تشریف لائے ، بیعت فارم پر کیا اور داخل سلسلہ عالیہ احمد یہ ہو گئے۔آگ ہماری غلام بلکہ ہمارے غلاموں کی غلام ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کے علاوہ ہر چیز جل گئی ، تصویر بچ گئی سینیگال کے علاقہ کا سانس میں بنجونہ کے قریب ہماری ایک مخلص جماعت جا بنگ ہے۔وہاں پر استاذ داؤد تا مبا صاحب بطور معلم تعلیم و تدریس کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔مسجد کے قریب ہی معلم صاحب کی رہائش کے لئے احباب جماعت نے دو مختصر سے کمرے بنائے ہوئے ہیں۔ایک شب مکرم معلم صاحب کسی کام کی غرض سے کمرے سے باہر گئے۔اس وقت ان کے کمرہ میں موم بتی جل رہی تھی۔اس دوران موم بتی کسی وجہ سے زمین پر گر گئی اور زمین پر پڑے ہوئے اوراق میں آگ لگ گئی۔( یادر ہے افریقہ کے اکثر ممالک میں بہت سے لوگ رات کو اپنے کمروں میں روشنی کے لئے موم بتیاں جلاتے ہیں ) زمین پر گری ہوئی موم بتی سے آگ ہر طرف پھیلنی شروع ہوگئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز جل کر راکھ ہو گئی۔معلم صاحب اور باقی احباب جماعت نے جب آگ دیکھی تو کمرے کی طرف لپکے۔معلم صاحب کے ساتھ ایک غیر از جماعت عربی کے سینیگالی استاذ بھی تھے۔جب کمرے میں پہنچے تو وہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ کمرہ میں موجود ہر چیز جل کر راکھ ہو چکی تھی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دیوار پر آویزاں تصویر بالکل صحیح و سالم تھی جبکہ اس کی اطراف میں باقی سب کا غذات وغیرہ جل کر خاکستر ہو چکے تھے۔لیکن آگ اس تصویر کے قریب پہنچ کر خود بخود بجھ گئی تھی۔اس واقعہ نے سب دیکھنے والوں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو روز روشن کی طرح اُجا گر کر دیا اور آپ علیہ السلام کے مبارک کلمات : آگ سے ہمیں مت ڈرا۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“ البدر جلد نمبر ۶،۵،۱ - ۲۸ نومبر ، ۵ دسمبر ۱۹۰۲ ص ۳۴) 96