ارضِ بلال — Page 94
ارض بلال- میری یادیں ) کے کنارے کسی سواری کے انتظار میں کھڑا تھا۔میں نے اس کے پاس جا کر موٹر سائیکل روکی اور اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔میں نے اسے بتایا کہ میں جماعت احمدیہ کا مبلغ ہوں اور جارج ٹاؤن میں انہی دنوں آیا ہوں۔اس نوجوان نے بتایا کہ اسکا نام محمد جوب ہے اور اس نے نصرت ہائی سکول سے اولیول کیا ہے اور آجکل وٹرنری کے شعبہ میں کنتا عور کے مقام پر ملازمت کر رہا ہے۔میں اس کے ہمراہ سیدھا اپنے مشن ہاؤس میں آ گیا، حسب توفیق خاطر مدارات کی۔نوجوان میرے اس حسن سلوک سے بہت خوش ہوا۔اس نے میرا شکریہ ادا کیا اور اپنی منزل کو روانہ ہو گیا۔اس نے مجھے بھی کنٹا عور آنے کی دعوت دی۔اس کے بعد میں بھی چند دفعہ اس کے پاس گیا۔اس نوجوان کے ذریعہ بہت سے لوگوں کے ساتھ میرے دوستانہ تعلقات اور شناسائی ہو گئی جو تبلیغ کے لئے بہت سودمند ثابت ہوئی۔چونکہ وہ احمد یہ سکول میں پڑھا ہوا تھا اس لئے احمدیت سے کسی حد تک پہلے سے ہی متعارف تھا۔میں نے بھی حسب علم و توفیق اسے جماعت کے بارے میں بتایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شمع روشن کر دی اور وہ احمدیت کی آغوش میں آگیا۔الحمد للہ۔اس کے بعد ان کی تقرری فاٹوٹو کے علاقہ میں ہو گئی۔وہاں بھی ان سے رابطہ رہا اور اس علاقہ میں بھی ان کے ذریعہ تبلیغ کا کام ہوتا رہا۔بہت دفعہ ان کے گھر میں تبلیغی اجلاس ہوئے۔ان کی رہائش فاٹوٹو کے چیف محمد سابینگ کے گھر میں تھی۔اس کے بعد چیف صاحب نے بھی بیعت کر لی تھی۔چیف صاحب کی ایک بیوی گیمبیا میں سب سے پہلے بیعت کرنے والے دوست مکرم بارہ انجاء صاحب کی بیوہ تھیں۔بڑی مہمان نواز خاتون تھیں اور جماعت سے بہت زیادہ دلی لگاؤ رکھتی احب کی یو تھیں۔بڑی مہ تھیں۔2009ء میں خاکسار گیمبیا گیا تو مجھے محمد جوب صاحب کے بارے میں بتایا گیا۔موصوف موجودہ 94