ارضِ بلال

by Other Authors

Page 58 of 336

ارضِ بلال — Page 58

ارض بلال- میری یادیں زبان بولنے کی کوشش کرتا تھا جسے اکثر اوقات لوگ میری بات سنے کی بجائے میرے چہرے کو دیکھنا شروع کر دیتے تھے جس کی وجہ سے رابطہ میں کافی دشواری تھی۔اس لئے میں روزانہ اپنے مکان کے باہر ایک بینچ پر بیٹھ کر آتی جاتی گاڑیاں گنتا رہتا۔ایک دن میں نے دیکھا کہ سڑک کی دوسری جانب بہت سی بچیاں اور بچے یونیفارم پہنے گزررہے ہیں۔میں نے سوچا کہ اس علاقہ میں قریب ہی کوئی پرائمری سکول ہے۔میں اٹھا اور اسی جانب چل پڑا۔تھوڑی دیر کے بعد میں ایک پرائمری سکول کے دروازہ پر پہنچ گیا۔سکول کا بیرونی گیٹ کھلا ہوا تھا، میں اندر چلا گیا۔سامنے سکول کی عمارت تھی جس میں ایک کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔میں اس کمرے کے پاس پہنچا، دیکھا کہ یہ پرنسپل کا دفتر ہے۔میں سلام کر کے اندر چلا گیا۔پرنسپل صاحب سے علیک سلیک ہوئی۔انہیں میں نے اپنا نام بتایا۔پرنسپل صاحب نے اپنا نام عبدالسلام باری بتایا۔پرنسپل صاحب اچھی انگریزی بولتے تھے۔اس لئے بات چیت کرنا آسان ہو گیا۔میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ میں پاکستانی ہوں۔آج کل گیمبیا میں بصے کے مقام پر ایک ہائی سکول میں پڑھاتا ہوں۔میں یہاں سینیگال میں فرنچ سیکھنے کے لئے آیا ہوں۔کہنے لگے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ میں نے بتایا کہ میں آپ کے سکول میں فرنیچ پڑھنا چاہتا ہوں۔کہنے لگے یہ تو پرائمری سکول ہے۔میں نے کہا کوئی بات نہیں ہے۔میں چونکہ بہت ابتدائی فرنچ پڑھنا چاہتا ہوں اس لئے میرے خیال میں مجھے پرائمری تو کیا نرسری میں بیٹھنا چاہیئے۔وہ بڑے حیران ہوئے۔کہنے لگے، دیکھو آپ غیر ملکی ہیں ، میں آپ کو اپنے سکول میں محکمہ تعلیم کی اجازت کے بغیر نہیں رکھ سکتا۔میں نے کہا چلو وہاں جا کر منظوری لے لیتے ہیں۔خیر اللہ نے ان کا دل نرم کر دیا اور وہ میرے ساتھ قریب ہی محکم تعلیم کے دفتر کو چل دیے۔انہوں نے وہاں جا کر ایک متعلقہ آفیسر سے بات کی کہ یہ ایک پاکستانی ٹیچر ہے، گیمبیا سے آیا ہے۔یہاں کچھ عرصہ کے لئے فرانسیسی پڑھنا چاہتا ہے۔اسے آپ کی طرف سے اجازت نامہ چاہیے۔وہ آدمی کچھ حیران سا ہوا۔تھوڑی دیر بعد کہنے لگا آپ درخواست لکھ دیں، میں آپ کو اجازت نامہ دے دیتا ہوں۔میں 58