عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 20
الفراء کہتے ہیں کہ عرب لوگ زمانہ جاہلیت میں ہر سال حج کے ایام میں اکٹھے ہوتے اور حج بیت اللہ کرتے۔اور قریش (جو مکہ میں رہتے تھے وہ عربوں کے اس اجتماع کی بدولت ) مختلف لغات عرب کو سنتے اور پھر ان کی زبانوں میں سے جو جو (محاورہ ، استعمال، ترکیب یا لفظ وغیرہ) انہیں اچھا لگتا اسے خود بھی بولنے لگتے۔اس طرح قریش افصح العرب ہو گئے۔اس سے بھی ثابت ہوا کہ لغات عرب سے مراد مختلف استعمالات اور محاورے وغیرہ بھی ہیں جو مختلف قبائل میں مختلف تھے یا بعض قبائل میں زیادہ اور بعض میں کم تھے۔لیکن چونکہ حج کی غرض سے سب عرب قریش کے پاس مکہ میں آتے تھے اس لیے قریش نے سب کی زبان سن سن کر اس میں سے اچھے اچھے محاورے اور استعمالات اپنی زبان میں جمع کر لیے تھے،۔اس لیے قریش افصح العرب کہلائے۔۔۔۔مزید وضاحت کے لیے لسان العرب کی یہ عبارت ملاحظہ ہو : نَزَلَ القُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّها شَافٍ كَافٍ، أَرَادَ بِالْحَرْفِ اللُّغَةَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ وَأَبُو العَبّاسِ : نَزَلَ عَلَى سَبْعِ لُغَاتٍ مِنْ 66 لُغَاتِ العَرَب۔،، (لِسانُ العَرَب، تَحْتَ كَلِمَةِ حَرْفَ) یعنی قرآن کریم سات حروف پر نازل کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک شافی اور کافی ہے۔اس قول میں نبی کریم صلی الم نے حرف سے مراد لغت 20