عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 21 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 21

لی ہے۔اس لیے ابو عبید اور ابو العباس نے کہا ہے کہ قرآن عربوں کی لغات میں سے سات لغات میں نازل ہوا۔حافظ ابن جریر طبری کہتے ہیں احرف سبعہ سے مراد قبائل عرب کی سات لغات ہیں۔(تفسير ابن جرير، القَوْلُ فِي اللُّغَةِ الَّتِي نَزَلَ بِهَا القُرْآنُ مِنْ لُغَاتِ العَرَبِ) سات لغات سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ سات بالکل مختلف زبانیں تھیں بلکہ یہ سات قبائل ایسے تھے جن کی عربی زبان میں بعض مقامات پر استعمال ہونے والے الفاظ و محاورات واستعمالات وغیرہ میں اختلاف تھا۔اور یہی وہ امر ہے جسے لغات عرب کا نام دیا گیا ہے۔۔۔لغات کی مزید وضاحت کے لیے لسان العرب کی یہ تحریر ملاحظہ ہو جس میں ابن منظور مؤلف لسان العرب، لیث کا قول درج کرتے ہوئے لکھتا ہے: وَيَكُونُ أَمْ بِمَعْنَى بَلْ، وَيَكُونُ أَمْ بِمَعْنَى أَلفَ الِاسْتِفْهَامِ كَقَوْلِكَ: أَمْ عِنْدَكَ غَداءٌ حاضِرٌ؟ وَأَنْتَ تُرِيدُ : أَعِنْدَكَ غَدَاءٌ حَاضِرٌ؟ وَهِيَ لُغَةٌ 66 66 حَسَنَةٌ مِنْ لُغَاتِ العَرَبِ لِسانُ العَرَبِ حَرْفُ المِيمِ تَحْتَ كَلِمَةِ أمم) یعنی اخم کبھی بل کے معنوں میں آتا ہے اور ام کبھی استفہام والے الف (أ) کے معنے میں استعمال ہوتا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ أَمْ عِنْدكَ غَداء