عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 19 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 19

یعنی جان لے کہ عیسی علیہ السلام کی وفات قطعیۃ الدلالت آیات سے ثابت ہے کیونکہ قرآن نے لفظ توفی کو صرف موت دینے اور ہلاک کرنے الله کے معانی میں ہی استعمال کیا ہے۔اور ان معنوں کی رسول اللہ صلی ا ہم نے بھی تصدیق فرمائی ہے اور اس پر صحابہ میں سے ایک ایسے شخص نے شہادت بھی دی ہے جو اپنی قوم کی لغات کا سب سے زیادہ علم رکھتا تھا۔یعنی اس کو الفاظ کے مختلف استعمالات اور محاورات واسالیب و معانی کا زیادہ علم تھا کہ توفی کا لفظ جب اس طرح کے استعمال میں آئے تو اس کا معنی سوائے موت کے اور کچھ نہیں۔ایسے استعمالات یا اسالیب کو بھی لغات کہا گیا ہے۔لغات کی مزید وضاحت کے لیے ذیل میں ہم لغت کی بعض کتب سے چند امور پیش کرتے ہیں۔لغت کی کتاب (الْمُؤْهِرُ ) میں لکھا ہے: قَالَ الفَرَّاءُ: كَانَت العَرَبُ تَحْضُرُ الْمَوْسِمَ فِي كُلِّ عَامِ، وَتَحُجُّ البَيْتَ فِي الجَاهِلِيَّةِ، وَقُرَيْسٌ يَسْمَعُونَ لُغَاتِ العَرَب، فَمَا اسْتَحْسَنُوهُ 66 مِنْ لُغَاتِهِمْ تَكَلَّمُوا بِهِ؛ فَصَارُوا أَفْصَحَ العَرَبِ۔“ (الْمُرْهِرُ، النَّوْعُ الْحَادِي عَشَرَ: مَعْرِفَةُ الرَّدِيءِ المَذْمُومِ مِنْ اللُّغَاتِ) **19***