عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 115
یہ ہے کہ مضمون سوچتے وقت اگر سلسلہ تحریر میں جو روانگی کے ساتھ چلا جاتا ہے کوئی فقرہ یا بعض وقت کوئی مصرعہ کسی گزشتہ قائل کا دل میں گزر جائے اور مناسب موقعہ معلوم ہو تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھا جاتا ہے۔اور اس کے لکھنے میں اگر محل پر چسپاں ہو کچھ بھی حرج نہیں دیکھا جاتا۔کیونکہ بے تکلف ہماری راہ میں آگیا اور عجیب تریہ کہ اکثر اوقات مجھے بالکل احساس نہیں ہوتا اور دوسرا کہتا ہے کہ یہ مصرعہ یا فقرہ، فلاں فقرہ یا فلاں مصرعہ سے بالکل مشابہ ہو گیا ہے۔بعض اوقات عجب طور کے توارد سے تعجب کرتا ہوں، جانتا ہوں کہ جلد باز اپنی جلد بازی اور سوء ظن سے اس پر اعتراض کرے گا۔مگر جانتا ہوں کہ میرا کیا گناہ ہے۔اگر کرے تو کر تار ہے۔کلام فصیح اپنے کمال پر پہنچ کر ایک نور بن جاتا ہے۔اور نور نور سے مشابہ ہوتا ہے۔سرقہ کے لئے جوانی اور جوانی کا زور بازو اور وسیع فرصتیں چاہئیں وہ مجھے کہاں۔اگر کوئی سرقہ کا خیال کرے تو کیا کرے۔جن لوازم کے ساتھ یہ تحریریں ظہور میں آئی ہیں۔اگر کوئی ان لوازم کے ساتھ تحریر کر کے دکھلاوے تو ایک دفعہ نہیں بلکہ ہزار دفعہ اس کو سرقہ کی اجازت دے سکتا ہوں۔آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مضمون خاص کی بحث میں سرقہ کا دروازہ بہت تنگ ہو تا ہے۔جو شخص اس کام میں پڑے وہ سمجھے گا کہ یہ الزام ایسے علمی مباحث میں کس قدر بیجا ہے۔115