عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 114
دے؛ اگر آپ کا کوئی تجربہ ہو تو میں آپ سے کوئی بحث کرنا نہیں چاہتا۔اور نہ میں اپنے نفس کو کوئی چیز سمجھتا ہوں۔باوجود ان سب اسباب کے کبھی مجھ کو موقعہ نہیں ملتا کہ جو کچھ لکھا ہے سوچ کی نظر سے اس کو دیکھوں۔پھر اگر اس طور کی تحریروں میں اگر کوئی صرفی یا نحوی غلطی رہ جائے تو بعید کیا ہے۔مجھے کب یہ دعوی ہے کہ یہ غیر ممکن ہے۔ان کم فرصتوں اور اس قدر جلدی میں جو کچھ قلم سے گزر جاتا ہے ، میں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتا ہوں۔ہاں اگر غلطی ہے تو میرے نفس کی وجہ سے۔پھر ان غلطیوں کے ساتھ سہو کاتب شامل ہو جاتا ہے۔پھر کب دعویٰ ہو سکتا ہے کہ یہ کتابیں صرفی یا نحوی غلطی سے پاک ہیں۔لیکن باوجود اس کے میں کہتا ہوں۔اور زور سے کہتا ہوں کہ اس جلدی کے ساتھ جو کچھ نظم اور نثر عربی مخالفوں کے الزام و انجام کے لئے میرے منہ سے نکلتے تھے وہ میرے منہ سے نہیں بلکہ ایک اور ہستی ہے جو ایک جاہل نادان کو اندر ہی اندر مدد دیتی ہے۔اور بیشک وہ امر خارق عادت ہے اور کسی عدوّ دین اور عدوّ صادقین کو یہ توفیق ہر گز نہیں دی جائے گی کہ وہ انہی لوازم ارتجال اور اقتضاب کے ساتھ اس کو اخیر تک نباہ سکے۔اور جو سرقہ کا خیال آپ نے کیا ہے آپ ناراض نہ ہوں یہ بھی صحیح نہیں۔اس عاجز کی ایک عادت ہے شاید اس کو آپ نے سرقہ پر حمل کیا ہے۔اور وہ *1147