عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 88
وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى یعنی: مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔(۲) اور میں نے حضور نبی اکرم صلی علیکم کی خدمت میں عرض کیا: یارسول اللہ ! کاش آپ ازواج مطہرات کو پردے کا حکم فرمائیں کیونکہ ان سے نیک اور بد ہر قسم کے لوگ کلام کرتے ہیں تو پر دے کے حکم والی آیت نازل ہوئی۔(۳) اور حضور نبی اکرم صلی علیم کی ازواج مطہرات نے آپس کی فطری غیرت کے باعث جب الله آپ صلی علیم پر دباؤ ڈالا تو میں نے انہیں کہا اگر آنحضرت صلی نام آپ سب کو طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ ان کا رب انہیں اور بیویاں عطا فرما دے جو آپ سے بھی بہتر ہوں۔“ تو یہی آیت نازل ہوئی۔( صحیح بخاری، کتاب الصلوۃ) اگر اس حدیث کے عربی الفاظ پڑھیں تو تجویز دیتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بعینہ وہی الفاظ استعمال کئے ہیں جو بعد میں آیت کی صورت میں قرآن میں نازل ہوئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا نعوذ باللہ آنحضرت صلی علیکم صحابہ سے اچھے اچھے خیالات لے کر بعد میں اسے وحی الہی بنا کر پیش کر دیتے تھے ؟ یا وہی بات درست ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی ہے کہ وحی الہی میں کسی انسان کے کلام کا بھی توارد ہو سکتا ہے۔اور اگر وحی الہی میں ایسا ہو سکتا ہے تو پھر انسان کے کلام میں تو بدرجہ اولی ایسا ممکن ہے۔88