عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 87 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 87

تِلْكَ عُقولُ رجال توَافَتْ عَلَى أَلْسِنَتِها، وَسُئِلَ أَبُو الطَّيِّبِ عَنْ مِثْلَ ذَلِكَ 66 فَقَالَ: الشَّعْرُ جَادَّةٌ، وَرُبَّمَا وَقَعَ الْحافِرُ عَلَى مَوْضِعِ الْحَافِرِ۔“ (العمدة في محاسن الشعر وآدابه، باب السرقات وما شاكلها جزء ۲صفحة ٢٨٩) یعنی ابو عمرو بن العلاء سے پوچھا گیا کہ آپ کا ایسے دو شعراء کے بارے میں کیا خیال ہے جن کی بعض شعروں میں لفظی اور معنوی توارد ہو جبکہ وہ دونوں آپس میں نہ کبھی ملے ہوں نہ ہی ایک نے دوسرے کے شعر کو سنا ہو ؟ ابو عمرو بن العلاء نے جواب دیا کہ یہ لوگوں کے باہم ملتے جلتے افکار ہیں جو ان کی زبانوں سے ادا ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے مطابقت اختیار کر گئے۔اور ابو الطيب المتنبی سے بھی اسی طرح کا سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ شعر کو بھی ایک راستہ ہی سمجھو۔اور راستہ میں چلتے ہوئے بسا اوقات ایک گھوڑے کے قدم کے نشان پر اس کے بعد میں آنے والے گھوڑے کا قدم آن پڑتا ہے۔علاوہ ازیں حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے رب نے تین باتوں میں میری موافقت فرمائی، (۱) میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کاش! ہم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنائیں تو اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوا: