عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 69 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 69

در حقیقت ہماری صرفی یا نحوی غلطی صرف وہی ہو گی جس کے مخالف صحیح طور پر ہماری کتابوں کے کسی اور مقام میں نہ لکھا گیا ہو۔مگر جب کہ ایک مقام میں کسی اتفاق سے غلطی ہو اور وہی ترکیب یا لفظ دوسرے دس ہیں یا پچاس مقام میں صحیح طور پر پایا جاتا ہو تو اگر انصاف اور ایمان ہے تو اس کو سہو کا تب سمجھنا چاہیئے نہ غلطی۔“ (ستر الخلافه ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۱۶) اس بیان سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام خود بعض سہو کاتب وغیرہ کی قسم کی غلطیوں کو تسلیم فرماتے ہیں لیکن اگر وہ لفظ یا ترکیب دیگر مقامات پر حسب قواعد درست طور پر تحریر ہے تو لازم آتا ہے کہ اسے سہو كاتب تسلیم کیا جائے۔چنانچہ کسی بھی سمجھی جانے والی غلطی کے بالمقابل حضور علیہ السلام کی کتب سے اس کے درست استعمالات نکال کر پیش کر دیے جائیں تو حضور علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق خود بخود ایسے اعتراضات کا رڈ ہو جائے گا۔مقامات حریری وغیرہ سے سرقہ کے الزام کا اصولی اور علمی رو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی تحریرات میں چونکہ بعض فقرے ایسے موجود ہیں جو بعینہ یا کسی قدر تبدیلی کے ساتھ مقامات حریری یا همذانی ***69