عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 70
وغیرہ کتب میں بھی پائے جاتے ہیں۔ان پر جاہل اور کو تاہ علم مخالفین اُس وقت سے لے کر آج تک اعتراض کرتے جا رہے ہیں کہ نعوذ باللہ حضور علیہ السلام نے یہ ان مقامات سے سرقہ کیے ہیں۔ان کے اعتراضات کی حقیقت اور اس کا اصولی جواب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ہی دے دیا تھا اور محض چند الفاظ یا ایک ایک جملے میں جوابات کے مآخذ کی طرف اشارہ فرما دیا ہے۔ہ پہلی اصولی بات: بعض فقرات کی بنا پر سرقہ کا الزام جہالت ہے حضور علیہ السلام کا موقف یہ ہے کہ یہ اسلوب ادبی کتب میں بلکہ آسمانی کتب میں بھی پایا جاتا ہے کہ بعض معروف ادباء کے کلام سے توارد ہو جاتا ہے اور ایسے چند فقرات کی بنا پر ان کتب پر سرقہ کا الزام محض جہالت ہے۔ایسے توارد پر نہ صرف یہ کہ اعتراض نہیں ہو سکتا بلکہ ادباء کے نزدیک یہ طریق مستحسن ہے اور ادبی ملکہ شمار کیا جاتا ہے۔چنانچہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: خود ادباء کے نزدیک اس قدر قلیل توارد نہ جائے اعتراض ہے اور نہ جائے شک۔بلکہ مستحسن ہے کیونکہ طریق اقتباس بھی ادبیہ طاقت میں شمار 700