عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 68
اس کا مطلب ہے حضور علیہ السلام نے بعض نکالی گئی غلطیوں کو چیک کر کے دیکھا کہ وہ کاتب کی غلطی ہے اور پھر یہ جواب دیا کہ کاتب کی غلطی کو میری غلطی شمار نہ کیا جائے۔آگے اس کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے کہ بعض لوگوں نے سہو کاتب والی غلطیاں نکال کر حضور علیہ السلام کو بھیجیں اور حضور کے چیلنج کے مطابق ان پر انعام حاصل کرنے کا مطالبہ کیا۔اس بارے میں حضور علیہ السلام نے خود تحریر فرمایا: بعض خوش فہم آدمی چند سہو کا تب یا کوئی اتفاقی غلطی نکال کر انعام کے امیدوار ہوئے۔“ (ستر الخلافہ ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۱۶) اس کا مطلب ہے اتفاقی غلطی اور سہو کاتب ہوا، اور حضور علیہ السلام کے سامنے آیا۔اور جہاں واضح طور پر اس کا پتہ چلا وہاں حضور علیہ السلام ا نے اسے خود تسلیم فرمایا ہے۔لیکن اس کے لیے بھی حضور علیہ السلام نے خود ایک شاندار قاعدہ بنا دیا۔کتابت کی غلطیوں اور سہو کاتب کے بارے میں اصولی ہدایت یہ سوال ہو سکتا تھا کہ یوں تو ہر غلطی کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ سہو کاتب یا لغزش قلم ہے۔لیکن آپ علیہ السلام نے اس کے بارے میں بھی اصولی ہدایت بھی دے دی اور وضاحت بھی فرما دی۔فرمایا:۔68