عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 64 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 64

بتائے ہوئے طریق کے مطابق ہے یعنی ایسے استعمالات جن پر اعتراض کیا جاتا ہے اس کی مثال اور دلیل کسی نہ کسی پرانی کتاب سے یا پرانی لغات یا قاعدہ سے تلاش کی جاتی ہے اور وہ مل جاتی ہے۔اس بیان سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حضور علیہ السلام نے جو کچھ لکھا اس کی حقیقت کے بارے میں بھی آپ کو گہرا علم تھا اور آپ نے اس کے مصادر وغیرہ کی طرف بھی اپنی تحریرات میں اشارے فرما دیے تھے۔صرفی نحوی قواعد کے خلاف عبارتوں کی تطبیق کا طریق آپ علیہ السلام کی تحریرات میں جہاں بظاہر صرفی محوی قواعد کی پابندی نظر نہیں آتی وہ کوئی سہو نہیں بلکہ اس کے بارے میں بھی حضور علیہ السلام کو علم تھا اور آپ نے اس کے جواب دینے کے لیے بھی خود راور کھائی تھی۔فرمایا: ” یہ عجیب بات ہے کہ بعض اوقات بعض فقروں میں خدا تعالیٰ کی وحی انسانوں کی بنائی ہوئی صرفی نحوی قواعد کی بظاہر اتباع نہیں کرتی مگر ادنی توجہ سے تطبیق ہو سکتی ہے۔اسی وجہ سے بعض نادانوں نے قرآن شریف پر بھی اپنی مصنوعی نحو کو پیش نظر رکھ کر اعتراض کئے ہیں مگر یہ تمام اعتراض بیہودہ ہیں۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۶) 64