عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 63
حضور علیہ السلام کی عربی تحریرات پر ممکنہ اعتراضات ان کے مآخذ کا بیان اور ان کے رڈ کا طریق معترضین کے اعتراضات پر حضور علیہ السلام کے جوابات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام کو مخالفین کے اعتراضات کی نوعیت کا بھی علم تھا اور اپنے خداداد علم کے کمال پر بھی ایسا یقین کامل تھا کہ جو آپ نے لکھا ہے وہ حقیقی اغلاط سے مبرا ہے کیونکہ وہ خدائی تصرف سے لکھا گیا ہے اس لیے آپ کی تحریر یا اسلوب میں جس بات پر اعتراض کیا جاتا ہے اس قاعدہ یا اسلوب کی مثال عربی لٹر بھر میں کہیں نہ کہیں ضرور مل جائے گی۔مثلاً فرمایا: ایک نادان نکتہ چینی کرتا ہے کہ فلاں صلہ درست نہیں یا ترکیب غلط ہے، اور اسی قسم کا صلہ اور اسی قسم کی ترکیب اور اسی قسم کا صیغہ قدیم جاہلیت کے کسی شعر میں نکل آتا ہے۔“ (نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه (۴۳۶) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی تحریرات پر اعتراضات کے جواب میں آج تک جو کام جماعت نے کیا ہے وہ بعینم حضور علیہ السلام کے 63