عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 65 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 65

پھر فرمایا: زبان کا علم وسیع خدا کو ہے نہ کسی اور کو۔اور زبان جیسا کہ تغیر مکانی سے کسی قدر بدلتی ہے ایسا ہی تغیر زمانی سے بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔آج کل کی عربی زبان کا اگر محاورہ دیکھا جائے جو مصر اور مکہ اور مدینہ اور دیارِ شام وغیرہ میں بولی جاتی ہے تو گویا وہ محاورہ صرف و نحو کے تمام قواعد کی بیخ کنی کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ اسی قسم کا محاورہ کسی زمانہ میں پہلے بھی گذر چکا ہو۔پس خدا تعالیٰ کی وحی کو اس بات سے کوئی روک نہیں ہے کہ بعض فقرات سے گذشتہ محاورہ یا موجودہ محاورہ کے موافق بیان کرے۔اسی وجہ سے قرآن میں بعض خصوصیات ہیں۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۶) پرانی عربی لغات اور مختلف قبائل اور علاقوں کے مختلف لہجے سارے فصیح عربی زبان کا حصہ تھے۔لیکن آج کل کے عربی لہجے بہت بگڑ گئے ہیں اور حضور علیہ السلام کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ آج کل دیار عربیہ میں بولی جانے والی عربی زبان صرف و نحو کے تمام قواعد کی بیخ کنی کر رہی ہے۔ہو سکتا ہے ایسا کوئی لہجہ پہلے بھی گزرا ہو اور خدا نے جو اسلوب حضور علیہ السلام کو سکھایا ہے یا جو وحی فرمائی ہے وہ اس پرانے محاورہ کے مطابق ہو۔65