عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 58
عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشه کی طرح نحویوں کی کوششیں بھی خطا سے خالی نہیں۔آپ حدیث اور قرآن کو چھوڑ کر کس جھگڑے میں پڑ گئے۔“ (الحق مباحثہ دہلی، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه (۱۸۴-۱۸۳ قواعد صرف و نحو کے بارے میں حضور علیہ السلام کے اس اقتباس میں مذکور فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ:۔۔۔علمائے قواعد وصرف غلطی سے مبرا یا خطا سے معصوم نہیں ہیں۔۔ہا۔عربی زبان کے قواعد قطعی نہیں ہیں نہ ہی اس معنی میں جامع ومانع ہیں کہ ہر قسم کے تمام امور کو ان میں سمٹا ہوا تصور کیا جائے۔اس لیے بہت سے ایسے امور ہو سکتے ہیں جو ان میں سے کسی قاعدے کے تحت نہ آتے ہوں۔علمائے قواعد وصرف کے بنائے ہوئے قواعد کی پابندی کوئی حجت شرعی نہیں کہ جس کا ہر حال میں التزام کیا جائے۔صرف ونحو کی کنجی لغت عرب میں ہے۔اور چونکہ لغت عرب دریائے نا پیدا کنار ہے اس لیے عقل کی بات یہی ہے کہ محدود قواعد صرف و نحو میں دریائے نا پیدا کنار کا سمانا محال ہے ؟ ہیں۔عربی زبان کا مکمل احاطہ سوائے نبی کے کوئی نہیں کر سکتا۔***58**