عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 59
نویوں کا عربی زبان کے قواعد بنانے کا عمل ناقص اور نامکمل ہے۔فہم قرآن کی بنا صرف آج کل کے معروف قواعد پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ قرآن کریم کو ان تمام قواعد پر مہیمن ہے۔اس امر کو مدِ نظر رکھ کر قرآن کریم کو سمجھنے کی ضرورت ہے یعنی اگر ان میں ن میں تبدیلی سے قرآن کریم کے خواص اور مفاہیم ظاہر ہوتے ہیں تو ایسے قاعدہ کو تبدیل کرنا عین درست ہو گا۔اسی طرح اگر کوئی قاعدہ قرآن کریم کے نئے مفاہیم ظاہر کرنے والا ہو تو اسے ضرور عربی زبان کے مضبوط قواعد میں سے ایک قاعدہ قرار دیا جانا چاہیے۔نحوی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ عربی زبان میں بہت سے ایسے الفاظ بھی موجود ہیں جو عربی زبان کے معروف قواعد کے تحت نہیں آتے۔حضور علیہ السلام کے اس موقف کی تائید دور حاضر کے بڑے بڑے نحوی بھی کرتے ہیں۔النحو الوافی کے مصنف عباس حسن صاحب نحو کے بارے میں لکھتے ہیں کہ نحو کے بارے میں سب سے پہلے جو کسی محقق کو پڑھنے کو ملتا ہے وہ کسی نحوی مسئلہ میں مختلف آراء اور ان آراء کی بنا پر کسی بھی ایک مسئلہ میں مختلف نحویوں کے مختلف احکام یا قواعد ہیں۔یہاں تک 59