عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 57 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 57

سمجھنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو بجز اللہ اور رسول کے کسی اور کو بھی معصوم قرار دیتے ہیں۔اللہ جل شانہ نے ہمیں یہ فرمایا ہے: فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ یعنی اگر تم کسی بات میں تنازع کرو تو اس امر کا فیصلہ اللہ اور رسول کی طرف رد کرو اور صرف اللہ اور رسول کو حکم بناؤ نہ کسی اور کو۔اب یہ کیونکر ہو سکے کہ ناقص العلم صرفیوں اور نحویوں کو اللہ اور رسول کو چھوڑ کر اپنا محکم بنایا جائے۔کیا اس پر کوئی دلیل ہے۔تعجب کہ متبع سنت کہلا کر کسی اور کی طرف بجز سر چشمہ طیبہ مطہرہ اللہ رسول کے رجوع کریں۔آپ کو یاد رہے کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قواعد موجودہ صرف و محو غلطی سے پاک ہیں یا ہمہ وجوہ متمم و مکمل ہیں۔اگر آپ کا یہ مذہب ہے تو اس مذہب کی تائید میں تو کوئی آیت قرآن کریم پیش کیجئے یا کوئی حدیث صحیح دکھلائیے ورنہ آپ کی یہ بحث بے مصرف فضول خیال ہے، حجت شرعی نہیں۔میں ثابت کرتا ہوں کہ اگر فی الحقیقت نحویوں کا یہی مذہب ہے کہ نون ثقیلہ سے مضارع خالص مستقبل کے معنوں میں آجاتا ہے اور کبھی اور کسی مقام اور کسی صورت میں اس کے بر خلاف نہیں ہوتا تو انہوں نے سخت غلطی کی ہے۔قرآن کریم ان کی غلطی ظاہر کر رہا ہے اور اکابر صحابہ اس پر شہادت دے رہے ہیں۔حضرت انسانوں کی اور کو ششوں (57)