عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 54 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 54

نام نهاد صرف و نحو کا جنازہ نکل جاتا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ صرف ونحو لغت عرب کے مطابق بنائی گئی ہے۔چنانچہ صرف ونحو کی کنجی لغت عرب میں ہے۔اور چونکہ لغت عرب دریائے نا پیدا کنار ہے اس لیے عقل کی بات یہی ہے کہ محدود قواعد صرف و نحو میں دریائے نا پیدا کنار کیونکر سما سکتا ہے ؟ !! علاوہ ازیں حضور علیہ السلام نے صرف ونحو کے فلسفہ پر بھی سیر حاصل بحث فرمائی ہے اور اس کے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں : ”صرف اور نحو ایک ایسا علم ہے جس کو ہمیشہ اہل زبان کے محاورات اور بول چال کے تابع کرنا چاہئے اور اہل زبان کی مخالفانہ شہادت ایک دم میں نحو وصرف کے بناوٹی قاعدہ کو رد کر دیتی ہے۔ہمارے پر اللہ اور رسول نے یہ فرض نہیں کیا کہ ہم انسانوں کے خود تراشیدہ قواعد صرف و نحو کو اپنے لئے ایسار ہبر قرار دیدیں کہ باوجودیکہ ہم پر کافی اور کامل طور پر کسی آیت کے معنے کھل جائیں اور اس پر اکابر مومنین اہل زبان کی شہادت بھی مل جائے تو پھر بھی ہم اس قاعدہ صرف یا نحو کو ترک نہ کریں۔اس بدعت کے الزام کی ہمیں حاجت کیا ہے۔کیا ہمارے لئے کافی نہیں کہ اللہ اور رسول 54