عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 55 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 55

اور صحابہ کرام ایک صحیح معنے ہم کو بتلاویں۔نحو اور صرف کے قواعد اطراد بعد الوقوع ہے اور یہ ہمارا مذہب نہیں کہ یہ لوگ اپنے قواعد تراشی میں بکلی غلطی سے معصوم ہیں اور ان کی نظریں ان گہرے محاورات کلام الہی پر پہنچ گئی ہیں جس سے آگے تلاش اور تتبع کا دروازہ بند ہے۔میں جانتا ہوں کہ آپ بھی ان کو معصوم نہیں سمجھتے ہوں گے۔آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں إِن هَذَانِ لَسَاحِرَانِ بھی آیت موجود ہے۔لیکن کیا آپ نظیر کے طور پر کوئی قول عرب قدیم کا پیش کر سکتے ہیں جس میں بجائے إِن هَذَینِ کے إِنْ هَذَانِ لکھا ہو۔کسی نحوی نے آج تک یہ دعویٰ بھی نہیں کیا کہ ہم قواعد صرف و نحو کو ایسے کمال تک پہنچا چکے ہیں کہ اب کوئی نیا امر پیش آنا یا ہماری تحقیق میں کسی قسم کا نقص نکلنا غیر ممکن ہے۔غرض التزام قواعد مخترعہ صرف ونحو کا حُج شرعیہ میں سے نہیں۔یہ علم محض از قبیل اطراد بعد الوقوع ہے اور ان لوگوں کی معصومیت پر کوئی دلیل شرعی نہیں مل سکتی۔خواص علم لغت ایک دریا نا پیدا کنار ہے۔افسوس کہ ہماری صرف و نحو کے قواعد مرتب کرنے والوں نے بہت جلد ہمت ہار دی اور جیسا کہ حق تفتیش کا تھا بجا نہیں لائے۔اور کبھی انہوں نے ارادہ نہیں کیا اور نہ کر سکے کہ ایک گہری اور عمیق نظر سے قرآنی وسیع المفہوم الفاظ کو پیش نظر رکھ کر قواعد 55