عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 53 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 53

صرف و نحو کی حقیقت معترضین اپنی کم علمی اور جہالت کی بنا پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی زبان کو آجکل کے معدودے چند معروف قواعد کے میز ان میں تولنا چاہتے ہیں۔اور بہت سے اعتراضات کی اصل وجہ ان کی یہی کم فہمی ہے۔حضور علیہ السلام کو ان صرف و نحو کے قواعد کی حقیقت کا بھی گہرا علم تھا اس لیے آپ نے عربی قواعد اور صرف ونحو کے بارے میں ایسی رائے درج فرمائی جس کی تصدیق آج کے محققین بھی کر رہے ہیں۔آپ نے فرمایا: ” لغت عرب جو صرف محو کی اصل کنجی ہے وہ ایک ایسا نا پیدا کنار دریا ہے جو اس کی نسبت امام شافعی رحمتہ اللہ کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے کہ لا يَعْلَمُهُ إِلَّا نَبی یعنی اس زبان کو اور اس کے انواع اقسام کے محاورات کو بجز نی کے اور کوئی شخص کامل طور پر معلوم ہی نہیں کر سکتا۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۷) اس پیرا گراف میں آپ علیہ السلام نے نہایت اختصار کے ساتھ ایسی عظیم الشان دلیل پیش فرمائی ہے کہ آپ کے محض ایک فقرے میں ساری 53)