عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 51
قریبی علاقوں کے رہائشی تھے۔کیونکہ جزیرہ نما عرب کے باشندے اور وہاں کے اصیل عربی قبائل ہونے کی وجہ سے ان قبائل کو لفظوں کے بنانے اور نئے الفاظ ایجاد کرنے کا مکمل اختیار اور حق حاصل تھا بلکہ یہ بھی حق حاصل تھا کہ وہ عجمیوں کی زبان سے جو کلمہ یا ترکیب پسند کریں اسے اپنی زبان میں شامل کر لیں۔اسی نہج پر قدیم عربوں نے جو غیر عربی کلمات اخذ کر کے استعمال کیے وہ معرب کہلاتے ہیں۔ایسے معرب کلمات کا عربی زبان میں موجود ہونا صاف بتاتا ہے کہ عرب عجمیوں کے ساتھ رہے اور ان سے عربوں کا میل جول رہا جس کی بنا پر انہوں نے عجمیوں کی زبان سے جو پسند آیا لے لیا اور اسے اپنی زبان میں داخل کر لیا اور پھر ایسے کلمات ان کی زبان پر بھی جاری ہو گئے اور قرآن کریم میں بھی ان کا ذکر ہے۔چنانچہ اس بنا پر ہم کسی قبیلہ کی زبان کو رد نہیں کر سکتے کہ اس کا فلاں عجمیوں کے ساتھ میل ملاپ تھا اور اس کی وجہ سے ان کی زبان فصیح نہیں رہی اور اس میں عجمی زبان کا اختلاط ہو گیا ہو گا۔اگر اس منطق کو مان لیا جائے تو پھر ان مذکورہ چھ قبائل کی زبان کو بھی رڈ کرنا پڑے گا کیونکہ قریش کے رحلة الشتاء والصیف یعنی سردیوں اور گرمیوں کے تجارتی سفر جاری تھے جس میں وہ سردیوں میں یمن اور [51]