عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 38 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 38

۔قبیلہ بنی ربیعہ کی ایک لغت یہ ہے کہ وہ کسی بھی کلمہ کی نصب کی حالت کی تنوین میں الف نہیں لکھتے تھے۔مثلاً وہ قراءت کتابا کو الف کے بغیر قراءت کتاب لکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں اس لغت کی مثال بھی پائی جاتی ہے آپ فرماتے ہیں : 99 ہے۔66 وَتَتَعَهَّدَها صَبَاحٌ وَمَساءً زُمَر الْمُعْتَقدِينَ۔(مَكْتُوبِ أَحْمَد) صباحًا کی بجائے آپ علیہ السلام نے صباح لکھا ہے جو کہ ایک قدیم لغت ایک سبب اختلاف لغات عرب یہ ہے کہ بعض قبائل بعض حروف کو قلب کر کے ان کی جگہ دوسرے حروف استعمال کرتے تھے مثلاً نون کو قلب کے ساتھ میم لکھتے اور پڑھتے تھے۔اس کے بارے میں لسان العرب کی یہ عبارت ملاحظہ ہو: وَفِي كِتابهِ لِوائِلِ بْن حُجْرٍ : مَنْ زَنَى مِم بِكْرٍ وَمَن زَنَى مِن ثَيِّبٍ، أَيْ مِنْ بَكْرٍ وَمِن ثَيِّب، فَقَلَبَ النُّونَ مِيمًا۔(لِسانُ العَرَبِ تَحْتَ كَلِمَةِ موم) وو وائل بن حجر نے اپنی کتاب میں مَنْ زَىٰ مِمْ بِكْرٍ وَمَنْ زَىٰ مِمْ ثَيِّبٍ لکھا یعنی من کی بجائے ہم لکھا ہے اور یوں اس نے نون کو میم سے قلب کر دیا ہے۔387