عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 37
*۔۔۔أَلا تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَان نَقيضانِ فَكَيْفَ يَجْتَمِعَانِ فِي وَقْتِ 66 واحِدٍ أَيُّهَا الْغَافِلُونَ۔(التَّبْلِيغِ)۔۔۔" إِنَّ فِي هَذَا الِاعْتِقادِ مُصِيْبَتَانِ عَظِيْمَتَانِ۔“ (التَّبْليغ) ان تمام مثالوں میں مثنی منصوب ہے جسے معروف قواعد کے اعتبار سے الف اور نون کی بجائے یاء اور نون کے ساتھ آنا چاہیے تھا لیکن جیسا کہ ذکر ہوا ہے کہ بعض پرانی لغات کے مطابق یہ درست ہے۔۲۔کیلا اور کتا کے بارے میں عام رائج قاعدہ یہ ہے کہ جب یہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوں تو رفع نصب اور جر تینوں حالتوں میں ان کا الف بر قرار رہتا ہے۔لیکن اس معروف قاعدہ سے ہٹ کر قبیلہ کنانہ کی لغت میں مثنی کے عام قاعدہ کی طرح ان کی بھی رفع الف کے ساتھ اور جرّ و نصب یاء کے ساتھ آتی ہے جو عام رائج قواعد سے ہٹ کر ہے۔اس کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں یہ ہے: ،، لِيَدُلٌ لَفظُ الأُنسَين عَلَى كِلْتَي الصَّفَتَين۔“ (منن الرحمن) جس کو اس لغت کا علم نہیں ہے وہ جہالت کے باعث کہے گا کہ یہاں پر كلتا الصفتين ہونا چاہیے۔لیکن اس کی بات غلط ہے کیونکہ یہ بھی عربی لغات میں سے ایک لغت ہے۔