عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 26 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 26

الفاظ کے معنی بھی تبدیل ہو جاتے تھے اس نقص کی وجہ سے عارضی طور پر بعض الفاظ کو جو ان قبائل میں رائج تھے اصل وحی کے بدل کے طور پر خدا تعالی کی وحی کے مطابق پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی تا کہ قرآن کریم کے احکام کے سمجھنے اور اس کی تعلیم سے روشناس ہونے میں کسی قسم کی روک حائل نہ ہو اور ہر زبان والا اپنی زبان کے محاورات میں اس کے احکام کو سمجھ سکے اور اپنے لہجہ کے مطابق پڑھ سکے۔“ ( تفسیر کبیر جلد 9 ص47 تا 50) لغات عرب میں اختلاف کی صورتیں اور اس کے اسباب مذکورہ بالا وضاحت سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ عربوں کی بے شمار لغات ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اختلاف لغات کے آخر اسباب کیا ہیں؟ گو بادی النظر میں یہ حصہ ہمارے مضمون سے براہ راست تعلق نہیں رکھتا لیکن ان اسباب کو جاننے کے بعد پتہ چلے گا کہ ان سے ہمارے مضمون کے بہت سے مخفی پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بھی کچھ وضاحت کر دی جائے۔اختلاف لغات کے اسباب کے بارے میں لسان العرب اور دیگر لغت کی کتب میں مختلف بیانات موجود ہیں۔