عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 27 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 27

اختلاف لغات کے اسباب میں سر فہرست مختلف قبائل کا ایک ہی بات کو بیان کرنے کے لیے مختلف الفاظ و تراکیب استعمال کرنا ہے۔اس اختلاف کے اسباب کے بارے میں محققین نے بہت کچھ لکھا ہے اور اس کی متعدد وجوہات بیان کی ہیں۔ابن فارس نے اپنی کتاب فقہ اللغہ میں لغات عرب کے اختلاف کے اسباب و وجوہات کا ذکر کیا ہے جسے علامہ سیوطی نے اپنی کتاب المزھر میں درج کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے : ا۔ایک وجہ حرکات (یعنی زیر زبر پیش اور جزم وغیرہ) کا اختلاف ہے۔مثلاً قریش نَستَعِین نون کی زبر کے ساتھ پڑھتے تھے جبکہ قبیلہ اسد وغیرہ میں اسے نون کی زیر کے ساتھ نستعین پڑھا جاتا تھا۔۔اسی طرح بعض قبائل میں معکم کو معکم یعنی عین کی جزم کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔اب یہ محض ایک حرف کی حرکت کی تبدیلی سے مختلف لغت بن جاتی ہے۔۔اسی طرح بعض قبائل کے ہاں أَنَّ زَيْدًا کو عن زيدًا لکھا یا پڑھا جاتا ہے۔بظاہر ان کو عَنَّ سے بدلنا بہت بڑا اختلاف ہے لیکن یہ موجود ہے اور جسے عربی لغات کا علم دیا گیا ہے اس کے کلام میں اگر ایسے استعمال کا کہیں نہ کہیں اظہار ہو گا تو ان امور سے جاہل شخص ضرور اسے غلطی قرار دے گا حالانکہ یہ استعمال لغات عرب میں سے ہیں اور درست لغت ہے۔