عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 25
الله۔الله قرآتیں ہیں۔ان قرآتوں کی وجہ سے یہ دھو کہ نہیں کھانا چاہیئے کہ قرآنِ کریم میں کوئی اختلاف ہے بلکہ اسے زبانوں کے فرق کا ایک طبعی نتیجہ سمجھنا چاہئے رسول کریم صلی علیم کے زمانہ میں چونکہ عرب کی آبادی کم تھی قبائل ایک دوسرے سے دور دور رہتے تھے اس لئے ان کے لہجوں اور تلفظ میں بہت فرق ہوتا تھا۔زبان ایک ہی تھی مگر بعض الفاظ کا تلفظ مختلف ہوتا تھا اور بعض دفعہ ایک معنی کے لئے ایک قبیلہ میں ایک لفظ بولا جاتا تھا دوسرے قبیلہ میں دوسرا لفظ بولا جاتا تھا۔ان حالات میں رسول کریم صل ال روم کو اللہ تعالی نے اجازت دے دی کہ فلاں فلاں الفاظ جو مختلف قبائل کے لوگوں کی زبان پر نہیں چڑھتے۔ان کی جگہ فلاں فلاں الفاظ وہ استعمال کر لیا کریں۔پس مضمون تو وہی رہا صرف بعض الفاظ یا بعض محاورات جو ایک قوم میں استعمال ہوتے تھے اور دوسری قوم میں نہیں اللہ تعالی نے ان الفاظ یا ان محاورات کی جگہ ان کی زبان کے الفاظ یا اپنی زبان کے محاورات انہیں بتا دیئے تا کہ قرآن کریم کے مضامین کی حفاظت ہو سکے اور زبان کے فرق کی وجہ سے اس کی کسی بات کو سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل نہ ہو جائے۔۔۔یہ اجازت محض وقتی طور پر تھی اور اس ضروت کے ماتحت تھی کہ ابتدائی زمانہ تھا تو میں متفرق تھیں اور زبان کے معمولی فرق کی وجہ سے