عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 18
ان لغات میں اختلاف، قبائل کے لہجوں میں ان الفاظ کی مختلف حرکات سے ہو تا تھا، تو کبھی قلب حروف سے۔کبھی کوئی قبیلہ بعض حروف کا اضافہ کر کے مختلف کلمات بنالیتا تھا تو کبھی تذکیر و تانیث میں اختلاف کی وجہ سے مختلف لغات تشکیل پاتی تھیں۔کبھی بعض حروف کو قریبی حرف میں مدغم کرنے سے مختلف لغات جنم لیتی تھیں تو کبھی ایک ہی لفظ کو متضاد معانی میں استعمال کرنے سے نئی لغت بن جاتی تھی۔علاوہ ازیں مختلف استعمالات و تراکیب و محاورے بھی ان لغات کا حصہ ہیں جو ایک ہی صورت حال کے بیان کے لیے مختلف قبائل کے ہاں مختلف صورتوں میں رائج تھے۔ان کا مفصل بیان آگے آئے گا۔ایسے لغات العرب میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چالیس ہزار الفاظ و تراکیب و استعمالات و اسالیب و محاورے وغیرہ سکھائے گئے۔۔۔لغات کے ان مذکورہ بالا معانی کی توثیق خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام سے بھی ہوتی ہے۔حضور فرماتے ہیں : فَاعْلَمْ أَنَّ وَفاةَ عِيسَى ثابت بالْآيَاتِ الَّتِي هِيَ قَطْعِيَّةُ الدَّلالَةِ، لِأَنَّ القُرْآنَ مَا اسْتَعْمَلَ لَفْظَ التَّوَفِّي إِلَّا لِلْإِمَاتَةِ وَالْإِهْلَاكِ، وَصَدَّقَ ذَلِكَ المَعْنَى رَسولُ الله وَشَهِدَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ الَّذِي كَانَ أَعْلَمُ بِلُغَاتِ قَوْمِهِ۔(حمامۃ البشری، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۳۱) * 187