عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 101
حضور علیہ السلام نے نہ صرف اس فرق کو خود بیان فرمایا بلکہ اس کے بالمقابل اپنے دعوی کو بھی نمایاں طور پر پیش کیا۔فرمایا: دو مقامات حریری بڑی عزت کے ساتھ دیکھی جاتی ہے حالانکہ وہ کسی دینی یا علمی خدمت کے لئے کام نہیں آسکتی کیونکہ حریری اس بات پر قادر نہیں ہو سکا کہ کسی بچے اور واقعی قصہ یا معارف اور حقائق کے اسرار کو بلیغ فصیح عبارت میں قلمبند کر کے یہ ثابت کرتا کہ وہ الفاظ کو معانی کا تابع کر سکتا ہے۔بلکہ اُس نے اوّل سے آخر تک معانی کو الفاظ کا تابع کیا ہے جس ثابت ہوا کہ وہ ہر گز اس بات پر قادر نہ تھا کہ واقعہ صحیحہ کا نقشہ عربی فصيح بلیغ میں لکھ سکے۔لہذا ایسا شخص جس کو معانی سے غرض ہے اور معارف حقائق کا بیان کرنا اُس کا مقصد ہے وہ حریری کی جمع کر دہ ہڈیوں سے کوئی مغز حاصل نہیں کر سکتا۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۳) اس ساری بحث پر نظر کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی عربی زبان کے دعوی کے اعتبار سے اوراس پر ہونے والے اعتراضات کے بارے میں کس قدر واضح موقف پر قائم تھے اور آپ کو ان اعتراضات کے مآخذ اور اسباب کا مکمل علم تھا۔اور ان کے جوابات کے بنیادی نکات آپ کے سامنے واضح اور عیاں تھے۔اور وہ نقطہ جس تک پہنچنے کے لیے *1017