عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 100
”ہمارا تو یہ دعوی ہے کہ معجزہ کے طور پر خدا تعالیٰ کی تائید سے اس انشاء پردازی کی ہمیں طاقت ملی ہے تا معارفِ حقائق قرآنی کو اس پیرایہ میں بھی دنیا پر ظاہر کریں اور وہ بلاغت جو ایک بیہودہ اور لغو طور پر اسلام میں رائج ہو گئی تھی اس کو کلام الہی کا خادم بنایا جائے۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۷) حریری اور حضور علیہ السلام کے اسلوب میں نمایاں فرق یہ ہے کہ حریری نے معانی کو الفاظ کا تابع کیا یعنی الفاظ کی بناوٹ کا خیال رکھا تا جملوں کا وزن اور ردھم قائم رہے اور سبجمع بنی رہے خواہ الفاظ کی رعایت رکھتے رکھتے وہ معنی جو اس کے ذہن میں ہے کیسا ہی فتیح یا فرسودہ ہو جائے۔اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک معین معنے کو تبدیل کیے بغیر مسجع مقفی الفاظ کی لڑی میں پرونے سے قاصر تھا بلکہ الفاظ کی لڑی اور ترتیب کو قائم رکھنے کی خاطر اس نے معنے اور مغز کا ستیاناس کر دیا۔اس لیے حریری کی کتب اور عبارات ظاہری الفاظ کی بناوٹ کے اعتبار سے تو ادبی رنگ ضرور رکھتی ہیں لیکن معنے کے حساب سے نہایت فرسودہ ہیں۔اس کے بالمقابل حضور علیہ السلام نے اعلیٰ ادبی عبارات اور مسجع و مقفی تحریرات میں اعلیٰ درجے کے مفاہیم اور معارف کو پر دیا ہے جس نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا۔*1007