عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 95
دے، گو محل پر چسپاں ہو کر دس ہزار فقرات بھی کسی غیر کی عبارتوں کا اُس کی تحریر میں آ جائے۔کیا ہر یک نادان نبی بلید ایسا کر سکتا ہے ؟“ نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۴۳) اگر ایسا بر محل اقتباس کرنے والا دس ہزار فقرے کا بھی اقتباس کر لے تب بھی وہ اس کا کمال شمار ہو گا۔لیکن جس کا یہ دعویٰ ہو کہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے وسعت علمی عطا ہوئی ہے اس کے کلام میں اقتباس جیسی صنف کا اظہار نہ ہو تو عیب شمار ہو گا۔ایسے کمال کے اظہار پر اعتراض کوئی جاہل ہی کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے اور دیگر ادباء کے اقتباس یا تناص میں فرق علم بلاغت پر لکھنے والوں کا اقتباس یا تناص اور تضمین کے بارے میں اختلاف ہے۔بعض اس کو سرقہ قرار دیتے ہیں اور بعض اس کو بلاغت کی ایک اعلیٰ صنف سمجھتے ہیں۔ان کی بات کو سمجھنے کے لیے اگر دو امور کا فرق واضح کر دیا جائے تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور فریقین کی بات اپنی اپنی جگہ پر درست ثابت ہوتی ہے۔اگر کوئی اقتباس کرتے ہوئے کسی پرانے ادیب کے کلام کو اس کی نص اور مفہوم سمیت اٹھا لے اور اس کا حوالہ دیے بغیر اپنے نام سے اپنی کتاب میں لکھ لے تو اسے بلاشبہ سرقہ قرار دیا جائے گا۔95