عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 94
کہ اس شخص نے مختلف مؤلفین کی کتب کو کھنگالا ہے اور ان کتب کے کئی ہزار جملے اسے زبانی یاد ہیں جنہیں وہ جب چاہے اور جیسے چاہے اپنے مضمون کے دوران نئے مفاہیم کی ادائیگی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔اسی لیے بعض محققین نے اقتباس اور تناص میں کوئی فرق نہیں کیا اور اس قسم کے اقتباس کو تناص یعنی ایک نئی نص قرار دیا ہے۔یعنی گو کہ کلمات تو پرانے کسی ادیب کے ہیں لیکن چونکہ وہ الفاظ نئے مضمون میں ایک نیا مفہوم ادا کر رہے ہیں اس لیے یہ ایک نئی نص ہے۔اور بلا شبہ ایسی قدرت رکھنا تو بہت مشکل کام اور ایک بے مثال ملکہ ہے۔یہ بات بھی حضور علیہ السلام نے خود ہی بیان فرمائی ہے چنانچہ فرمایا: ادیب جانتے ہیں کہ ہزارہا فقرات میں سے اگر دوچار فقرات بطور اقتباس ہوں تو اُن سے بلاغت کی طاقت میں کچھ فرق نہیں آتا بلکہ اس طرح کے تصرفات بھی ایک طاقت ہے۔۔۔۔نادان انسان کو اگر یہ بھی اجازت دی جاوے کہ وہ پچر اگر ہی کچھ لکھے تب بھی وہ لکھنے پر قادر نہیں ہو سکتا کیونکہ اصلی طاقت اُس کے اندر نہیں۔مگر وہ شخص جو مسلسل اور بے روک آمد پر قادر ہے اس کا تو بہر حال یہ معجزہ ہے کہ اُمور علمیہ اور حکمیہ اور معارف حقائق کو بلا توقف رنگین اور بلیغ فصیح عبارتوں میں بیان کر 94