عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 96
جبکہ اگر کوئی پرانے ادیب کا کوئی جملہ اپنے مضمون کے سیاق کلام میں اس طرح لکھے کہ اس جملہ کا معنی بالکل بدل جائے اور یہ جملہ اس کا تب کے نئے مضمون کا حصہ بن جائے تو اسے سرقہ نہیں بلکہ اقتباس یا تناص کہا جائے گا، جسے محققین ایک فن اور قادر الکلامی شمار کرتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس کو جو چیز پوری دنیا کے تمام ادباء کے اقتباس سے ممتاز کرتی ہے وہ حضور علیہ السلام کا یہ دعویٰ ہے کہ میرا اقتباس، کسب کردہ علم اور ذاتی کوشش سے نہیں ہے، بلکہ وہ خدا کی دین ہے کہ بعض اوقات کسی پرانے ادیب یا شاعر کا کوئی فقرہ دوران مضمون ایسے آجاتا ہے کہ وہ اس مضمون کا حصہ بن جاتا ہے نیز اکثر اوقات تو ایسے فقرات میرے لیے علم غیب ہے جس پر اللہ تعالیٰ مجھے اطلاع دیتا ہے۔ہو سکتا ہے ایسے فقرات کسی کے علم میں ہوں کہ فلاں کتاب سے ہیں لیکن میں لکھتے وقت نہیں جانتا کیونکہ یہ مجھے خدا کی عطا سے مل رہے ہوتے ہیں، اس لیے میرے لیے وہ علم غیب کی حیثیت رکھتے ہیں۔اور یہ بات اقتباس کرنے والے کسی ادیب کے حصے میں نہ آئی ہے نہ آسکتی ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا: وو بار ہا بعض امراض کے علاج کے لئے مجھے بعض ادویہ بذریعہ وحی معلوم ہوئی ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ پہلے مجھ سے جالینوس کی کتاب میں لکھی گئی