عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 67 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 67

ہو جائے اور باعث خطاء نظر کے اُس غلطی کی اصلاح نہ ہو سکے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ سہو کاتب سے کوئی غلطی چھپ جائے اور بباعث ذہول بشریت، مؤلف کی اسپر نظر نہ پڑے۔“ (کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۴۷) نیز فرمایا: إِن كُتُبِي مُبَرَّأَةٌ مِمَّا زَعَمْتَ، وَمُنَزَّهَةٌ عَمَّا ظَنَنْتَ، إِلَّا سَهْوَ الكاتبيْنَ، أَوْ زَيْغَ القَلَم، بتَغَافُل مِنِّي لَا كَجَهْلِ الْجَاهِلِيْنَ۔" (مكتوب احمد ، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه ۲۴۱ - ۲۴۲) یعنی میری کتب تمہاری مزعومہ غلطیوں اور مظنونہ اخطا سے مبرا ہیں سوائے اس غلطی کے جو کاتبین کی سہو ہو، یا لغزش قلم ہو ، یا میری غفلت سے رہ گئی ہو ، نہ کہ جہالت کی وجہ سے صادر ہوئی ہو۔اسی طرح ایک مقام پر فرمایا: اکثر جلد باز نکته چین خاص کر شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی جو ہماری عربی کتابوں کو عیب گیری کی نیت سے دیکھے ب گیری کی نیت سے دیکھتے ہیں باعث ظلمت تعصب، کاتب کے سہو کو بھی غلطی کی مد میں ہی داخل کر دیتے ہیں۔“ (ستر الخلافہ ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۱۶)