عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 66
اس کلام سے واضح ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام کو اپنی وحی پر کس قدر یقین تھا اور کتنے وثوق سے آپ فرماتے ہیں کہ یہ کسی نہ کسی پرانے محاورہ کے مطابق درست ہو گی، صرف تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔آج جو بھی معترضین کے جواب دینے کی کوشش کرتا ہے اس کی تحقیق کا ماحصل یہی ایک جملہ ہے کہ ادنی توجہ سے تطبیق ہو سکتی ہے۔“ کیونکہ تھوڑی سی محنت سے ہر مقام اعتراض کی مثال پرانی کتب سے مل جاتی ہے۔کیا حضور کی کتب میں سہو وغیرہ کی کوئی غلطی نہیں ؟! مذکورہ بالا ساری بحث کا یہ مطلب نہیں کہ حضور علیہ السلام کی عربی کتب میں نظر آنے والی ہر غلطی کے بارے میں ہمارا یہی موقف ہونا چاہیے کہ کسی نہ کسی قاعدہ کی رو سے یہ درست ہو گی۔کیونکہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بعض ایسی غلطیوں کی موجودگی کا ذکر فرمایا ہے تو ہمیں بھی اس سے انکار نہیں ہے۔لیکن حضور علیہ السلام کے بیان میں جو اس کی تصریح ہے اسے ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے۔آپ نے فرمایا ہے کہ: ”جو شخص عربی یا فارسی میں مبسوط کتابیں تالیف کرے گا ممکن ہے کہ حسب مقولہ مشہورہ قَلَّمَا سَلِمَ مِكْتَارٌ کے کوئی صرفی یا نحوی غلطی اُس سے 667