عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 93
اگر یہ خیال کیا جائے کہ یہ چند فقرے بطور اقتباس کے لکھے گئے ، تو اس میں کون سا اعتراض پیدا ہو سکتا ہے ؟ خود حریری کی کتاب میں بعض آیات قرآنی بطور اقتباس موجود ہیں۔ایسا ہی چند عبارات اور اشعار دوسروں کے بغیر تغییر تبدیل کے اس میں پائے جاتے ہیں اور بعض عبار تیں ابوالفضل بدیع الزمان کی اس میں بعینہ ملتی ہیں۔تو کیا اب یہ رائے ظاہر کی جائے کہ مقامات حریری سب کی سب مسروقہ ہے ؟“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۳) اقتباس ایک بہت مشکل امر ہے اور سوائے قادر الکلام حضرات کے کوئی اور نہیں کر سکتا۔کیونکہ اقتباس کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں ان میں سے اول نمبر پر وسعت علمی آتی ہے۔یعنی آپ کسی تحریر کے دوران کسی پرانے مؤلف کے کلام سے اقتباس تجھی کر سکتے ہیں جب آپ نے ایسے مؤلفین کی کتب کو اتنے غور سے پڑھا ہو کہ ان کے فقرات کے فقرات آپ کو مستحضر ہوں اور جب آپ کوئی مضمون لکھنے لگیں تو بعض مفاہیم کے مناسب حال پرانے ادباء کی کتب کے فقرات خود بخود آپ کی نوک قلم پر آجائیں۔یہ ایک ایسا ملکہ ہے کہ جو لکھاری جس قدر اپنے کلام میں اقتباس کرے گا اسی قدر یہ بات اس کی وسعت علمی پر دلالت کر رہی ہو گی اور ثابت ہو گا 93