عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 92
کرتے وقت چند جملے بطور اقتباس درج کر دیتے ہیں جو ہو سکتا ہے کہ پرانی کتب میں کسی اور مضمون کو ادا کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہوں لیکن اس نئے مضمون میں ایسے سلیقے سے پروئے جاتے ہیں کہ اس نئے مضمون کا ہی جزو بن جاتے ہیں اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ فقرات اسی مضمون کے لیے ہی لکھے گئے تھے۔توارد اور اقتباس میں یہ فرق ہے کہ توارد بغیر علم کے کسی خاص موقع پر بعینہ وہی کلمات یا ترکیب یا محاورہ استعمال کرنا ہے جیسے کسی اور نے ماضی میں ویسی ہی یا اس سے ملتی جلتی صورت حال میں کیا۔اور اس کی وجہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے یہ ہے کہ بعض محاورات ادبیہ کا کوچہ ایسا تنگ ہے کہ اُس میں بعض ادباء کو بعض سے تو ارد ہو نا عین ممکن ہے۔لیکن اقتباس بعض فقرات کا بعض پرانی معروف کتب یا معروف مصنفین کے کلام سے اقتباس کر کے اثنائے کلام اسے اپنے مضمون کا حصہ بنانا ہے۔اقتباس کوئی عیب کی بات نہیں بلکہ لکھنے والے کی قادرالکلامی اور علمی دسترس، وسعت معلومات اور کمال پر دلالت کرتا ہے اور اس پر بھی اعتراض محض جہالت کی وجہ سے ہی کیا جاتا ہے۔اس کے بارے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود وضاحت فرما دی چنانچہ فرمایا: 92