عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 90 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 90

ہمدانی کے کسی فقرہ سے توارد تھا۔افسوس کہ اُن کو اس اعتراض کے کرتے ہوئے ذرہ شرم نہیں آئی اور ذرہ خیال نہیں کیا کہ اگر ان قلیل اور دو چار فقروں کو تو ارد نہ سمجھا جائے جیسا کہ ادیبوں کے کلام میں ہوا کرتا ہے اور یہ خیال کیا جائے کہ یہ چند فقرے بطور اقتباس کے لکھے گئے تو اس میں کون سا اعتراض پیدا ہو سکتا ہے ؟“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۲) توار د کیوں ضروری ہے؟ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر کسی کو لسان عربی میں کمال حاصل کرنے کا دعویٰ ہے اور کامل وسعت علمی حاصل ہے تو پھر تو ارد کی ایسی کیا ضرورت ہے ؟ اس کا بھی جواب حضور علیہ السلام نے خود ہی دیا ہے اور وضاحت کی ہے کہ تو ارد کیوں ہوتا ہے اور اس کی ضرورت کیونکر پڑتی ہے ؟ فرمایا: بعض محاورات ادبیہ کا کوچہ ایسا تنگ ہے کہ یا تو اُس میں بعض ادباء کو بعض سے توارد ہو گا اور یا ایک شخص ایک ایسے محاورہ کو ترک کرے گا جو واجب الاستعمال ہے۔ظاہر ہے کہ جس مقام پر خصوصیات بلاغت کے لحاظ سے ایک جگہ پر مثلاً اقتحم کا لفظ اختیار کرنا ہے نہ اور کوئی لفظ تو اس لفظ پر تمام ادباء کا بالضرور توارد ہو جائے گا اور ہر ایک کے منہ سے یہی لفظ نکلے 067