عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 91
گا۔ہاں ایک جاہل نبی جو اسالیب بلاغت سے بے خبر اور فروق مفردات سے ناواقف ہے وہ اس کی جگہ پر کوئی اور لفظ بول جائے گا اور ادباء کے نزدیک قابل اعتراض ٹھہرے گا۔ایسا ہی ادباء کو یہ اتفاق بھی پیش آجاتا ہے کہ گو ہیں شخص ایک مضمون کے ہی لکھنے والے ہوں جو میں ہی ادیب اور بلیغ ہوں مگر بعض صورتوں کے ادائے بیان میں ایک ہی الفاظ اور ترکیب کے فقرہ پر اُن کا توارد ہو جائے گا۔اور یہ باتیں ادباء کے نزدیک مسلمات میں سے ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں۔اور اگر غور کر کے دیکھو تو ہر ایک زبان کا یہی حال ہے۔اگر اُردو میں بھی مثلاً ایک فصیح شخص تقریر کرتا ہے اور اُس میں کہیں مثالیں لاتا ہے کہیں دلچسپ فقرے بیان کرتا ہے تو دوسرا فصیح بھی اُسی رنگ میں کہہ دیتا ہے اور بجز ایک پاگل آدمی کے کوئی خیال نہیں کرتا کہ یہ سرقہ ہے۔انسان تو انسان خدا کے کلام میں بھی یہی پایا جاتا ہے۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۳ تا ۴۳۴) تیسری اصولی بات: اقتباس ایک ملکہ ہے نہ کہ سرقہ ! تیسری اصولی بات یہ ہے کہ بڑے بڑے ادباء بھی اپنے ہم عصروں یا اپنے قدیم ادباء کے کلام سے اقتباس کرتے ہوئے اپنی کتب میں کسی مضمون کے تحریر 91>