عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 84
افسروں نے احدیت سے ٹکر لی تو خدا نے انکی صف پیسٹ دی مگر آج ہر احمدی مرد اور ہر احمد می عورت اور ہر احمدی بچہ ڈنکے کی چوٹ کہ سکتا ہے کہ احمدیت پر سورج غروب نہیں ہوتا نہ کبھی ہو سکتا ہے اور ہر طلوع ہونے والا سورج احمدیت کی ترقی اور عروج کا پیغام میں لیکر آتا ہے۔حضرت مسیح موجود علیہ السلام نے فرمایا ہے ہے کوئی کا ذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظر میرے جیسی جسکی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار یہ فتوحات نمایاں یہ تو انہ سے نشاں کیا یہ ممکن ہے بیشتر سے کیا یہ مکاروں کا کار دوسری مثال۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مشہور شعرا یہ ہے ہے شان احمد را که داند بجز خدا وند کریم آنچنان از خود جدا شد که میان افتادیم ( توضیح مرام ) احمد کی شان کو سوائے خداوند کریم کے کون جان سکتا ہے۔وہ اپنی خودی سے اسطرح الگ ہو گیا کہ میم درمیان سے گر گیا۔(مطلب یہ کہ آنحضرت اللہ تعالیٰ کے مظہر ا تم ہیں اس لئے جس طرح اللہ تعالٰی خالق ہوتے ہیں شان احدیت کا حامل ہے اسی طرح آنحضرت تمام مخلوق میں احد ہیں ) اس شعر کو جو عشق مصطفی سے معطر ہے مولانا ثناء اللہ صاحب امرانتری نے اپنی کتاب " علم کلام مرزا » صا" میں " مشرکانہ تعلیم قرار دیا مگر زمانہ کی نیرنگیاں ملاحظہ ہوں کہ خدا کا وہ پاک اور برگزیدہ بندہ جس کو کبھی