عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 75
رہا ہے اور غالبا مستقبل قریب میں ہم پر یہ فرض عائد ہو جائیگا کہ ہم اس کی طرف زیادہ تفصیل سے تو ہم دیں۔اس موقعہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے مولوی محمد حسین بٹالوی نے بھی حکومت کو انتباہ کرنا شروع کیا کہ گورنمنٹ اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پر سندر رہنا ضروری ہے ور اس کا دیا تی مہدی سے استقدیر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے نہیں پہنچا ہے اس مخبری کے کچھ عرصہ بعد انگریزی حکومت کی طرقہ سے مولوی محمد حسین بٹالوی کو چار مرتبہ زمین سے نوازا گیا جس کا اعتراف انہوں نے اپنے رسالہ اشاعت استہ جلد ۱۹ نمبرا صد میں فرمایا۔بہر حال حضور کے خلاف جب یہ پروپیگنڈا بڑھ گیا تو پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ سطبات بنا السلام نے رسالہ اشاعت السنہ جلد ۱۸۸۴۶ء سے مولوی صاحب موصوف کی تحریر کا وہ اقتباس شائع کیا جس میں انہوں نے حضور کے آباؤ اجداد کی خدمات کا تذکرہ کر کے انگریزی حکام کی سندات کی نقول درج کی تھیں ازاں بعد اپنے با قا عدہ اشتہار میں اس الزام کی تردید فرمائی مگر اس کے باوجود حکومت کا رویہ پہلے سے بھی سخت ہو گیا اور مذہبی را ہنماؤں نے بھی انگریزی حکومت کے کان بھرنے شروع کر دیئے۔چنانچہ قاضی فضل احمد کورٹ انسپکٹر لدھیانہ نے " کلمه رمانی ۲۲۰ ، ص میں انگریز کی حکومت کو اشتعال دلایا کہ مرزا صاحب در پر وہ ایک لاکھ لیے رسالہ " اشاعتہ السنہ جلد ۱ ۱۶۰ به اشاعت مهم جهادی ۱۳۹۶ در مطابق میر کشور