انوار خلافت — Page 93
۹۳ بات کا خواہاں ہے کہ ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں۔ہمارا اس کے پیچھے نماز پڑھ لینا اسے کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمد یوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ غیر احمدیوں سے ہم دیگر دنیاوی اور تمدنی تعلقات منقطع کر دیں۔آنحضرت ملا کہ تم نے تو عیسائیوں کو بھی اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دی تھی۔پس جب باوجود اس قدر اختلاف کے دین میں ایک دوسرے کو مذہبی سہولتیں بہم پہنچانے کا حکم ہے تو دنیاوی تعلقات کو ترک کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔دوسروں سے محبت کرو پیار کرو، ان کی مصیبت کے وقت ان کے کام آؤ، بیمار کا علاج کرو، بھوکے کو روٹی کھلاؤ، ننگے کو کپڑا پہناؤ ان باتوں کا تمہیں ضرور ثواب ملے گا لیکن دین کے معاملہ میں تم ان کو اپنا امام نہیں بنا سکتے۔حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بار بار حکم دیا ہے۔پس اس بات کو خوب یا درکھو۔اور سختی سے اس پر عملدرآمد کرو۔غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا پھر ایک سوال غیر احمدی کے جنازہ پڑھنے کے متعلق کیا جاتا ہے۔اس میں ایک یہ مشکل پیش کی جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے بعض صورتوں میں جنازہ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔اس میں شک نہیں کہ بعض حوالے ایسے ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔اور ایک خط بھی ملا ہے جس پر غور کیا جائے گا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل اس کے برخلاف ہے چنانچہ آپ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا تھا۔جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہ کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ہے۔ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آ گیا جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رورہا تھا۔آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ میری