انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 193

انوار خلافت — Page 94

۹۴ بڑی عزت کیا کرتا تھا۔لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔حضرت صاحب نے اس کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہے اسی طرح کریں لیکن باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔حدیث میں آیا ہے کہ جب ابو طالب جو آنحضرت صلی ا یہ ستم کے چاتھے فوت ہونے لگے ( بعض نے تو ان کو مسلمان لکھا ہے لیکن اصل بات یہی ہے کہ وہ مسلمان نہ تھے ) تو آنحضرت ﷺ نے کہا کہ چا ایک دفعہ لا الہ الا اللہ کہد و تا کہ میں آپ کی شفاعت خدا تعالیٰ کے حضور کرسکوں لیکن انہوں نے کہا کہ کیا کروں جو کچھ تم کہتے ہو۔اس کو دل تو مانتا ہے مگر زبان پر اس لئے نہیں لاسکتا کہ لوگ کہیں گے مرنے کے وقت ڈر گیا ہے۔اسی حالت میں وہ فوت ہو گئے (السيرة النبوية لابن هشام جلد ۲ صفحه ۴۱۸ مطبوعه از مؤسسه علوم القرآن بیروت) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چونکہ والد تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ آنحضرت سلی لا یہ کلام سے ان کے متعلق کچھ فیض حاصل کریں۔مگر ساتھ ہی ڈرتے تھے کہ یہ چونکہ مسلمان نہیں ہوئے اس لئے رسول کریم ناراض نہ ہو جائیں۔اس لئے انہوں نے اپنے والد کے مرنے کی خبر رسول کریم سایا ہی تم کو ان الفاظ میں پہنچائی کہ یا رسول اللہ آپ کا گمراہ بڑھا چا مر گیا ہے۔آپ نے فرمایا جاؤ اور جا کر ان کو غسل دو لیکن آپ نے ان کا جنازہ نہ پڑھا۔قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا ہے لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا جنازہ بھی جائز نہیں۔پھر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔یہ دین کی باتیں ہیں۔ان میں جھگڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔دنیا کے معاملات میں ہم دوسروں کے ساتھ ایک ہیں لیکن دین کے معاملہ میں فرق ہے اس میں ایک نہیں ہو سکتے۔اور سمجھدار آدمی اس کو خوب سمجھ سکتے ہیں۔لکھنو میں ہم ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے اس