انوار خلافت — Page 92
۹۲ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں۔جائز نہیں۔جائز نہیں۔میں اس کے متعلق خود کر ہی کیا سکتا ہوں۔میں بھی تو اسی کا فرمانبردار ہوں جس کے تم سب ہو۔پھر میں کیا کرسکتا ہوں اور میرا کیا اختیار ہے۔ہاں میرا یہ فرض ہے کہ میں آپ لوگوں کو حضرت مسیح موعود کا یہ حکم بار بار سناتا رہوں خود مانوں اور تم سے منواؤں۔غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق جو لوگ پوچھتے ہیں میں ان کو کہا کرتا ہوں مجھے یہ تو بتاؤ کہ جس شخص پر گورنمنٹ ناراض ہو اس کو تم لوگ گورنمنٹ کے آگے اپنی سفارش کرانے کے لئے پیش کیا کرتے ہو یا اس کو جس پر خوش ہو اور جو اس کے سامنے مقبول ہو اس کا یہی جواب دیتے ہیں کہ جس پر گورنمنٹ خوش ہو اسی کو پیش کیا کرتے ہیں۔پس اگر گورنمنٹ کے سامنے اپنا ڈیپوٹیشن (DEPUTATION) لے جانے کے لئے کسی ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی نظر میں مقبول ہو۔تو پھر یہ کوئی عقلمندی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لئے ایک ایسے آدمی کو اپنے آگے کھڑا کیا جائے جو مغضوب ہو۔یہ کوئی مشکل بات نہیں آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔اس لئے ان لوگوں کو اپنا امام نہیں بنانا چاہئے جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور مغضوب ٹھہر چکے ہیں اور ہمیں اس وقت تک کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے جب تک کہ وہ بیعت میں داخل نہ ہو جائے اور ہم میں شامل نہ ہو۔خدا تعالیٰ کے مامور ایک بڑی چیز ہوتے ہیں جو ان کو قبول نہیں کرتا وہ خدا کی نظر میں قبول نہیں ہوسکتا۔اس میں شک نہیں کہ بعض غیر احمدی ایسے ہوں گے جو سچے دل سے حضرت مسیح موعود کو صادق نہیں مانتے اس لئے قبول نہیں کرتے۔لیکن ہم بھی مجبور ہیں کہ ایسے لوگوں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ خواہ کسی وجہ سے سہی وہ حق کے منکر ہیں۔غیر احمدیوں کا اس بات پر چڑنا کہ ہم ان کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے ایک لغو امر ہے۔وہ غیر احمدی جو یہ سمجھتا ہے کہ مرزا صاحب جھوٹے ہیں وہ ہم کو مسلمان کیونکر سمجھتا ہے اور کیوں اس